بہن بِیوِی سے زیادہ وفا دار
لیکن ابّا جی اور امی کو یا باجی کو کسی کو بھی یہ بات ابھی پتہ نہ چلے میں وقعت آنے پے خود سب کو بتا دوں گا . تو نبیلہ بولی بھائی آپ بے فکر ہو جائیں میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گی . لیکن آپ نے مجھے بہت اچھی خوشخبری سنائی ہے میرا سائمہ کی وجہ سے بہت موڈ خراب تھا لیکن آپ نے خوشبربی سنا کر مجھے خوش کر دیا ہے . پِھر میں نے کہا نبیلہ مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے اگر تم ناراض نہ ہو گی تو نبیلہ نے کہا بھائی آپ کیسی بات کرتے ہیں آپ سے کبھی بھی ناراض نہیں ہو سکتی آپ میری جان ہیں . میں نے کہا اچھا یہ بتاؤ سائمہ نے جو باجی فضیلہ کے بارے میں باتیں بتائی تھیں کیا باجی سے اس کے متعلق کوئی بات ہوئی تھی . اگر ہوئی تھی تو باجی نے آگے سے کیا کہا تھا . نبیلہ نے کہا بھائی میں نے بہت دفعہ کوشش کی کے کسی دن اکیلے میں بیٹھ کر باجی سے سائمہ کی ساری بات کروں لیکن یقین کریں باجی کئی دفعہ گھر میں آ کر رہتی ہیں لیکن میری ہمت ہی نہیں بنتی ان سے بات کرنے کی لیکن بھائی آپ کیوں پوچھ رہے ہیں . میں نے کہا اگر سائمہ کی کہی ہوئی باتیں سچ ہیں تو پِھر سائمہ باجی کو بھی بلیک میل کر سکتی ہے اور تمہاری دشمنی میں ان کو بھی تنگ کر سکتی ہے . اور شاید سائمہ کو کچھ اور بھی باجی کے متعلق پتہ ہو اِس لیے میں چاہتا تھا تم باجی سے کھل کر بات کرو اور ان کو سائمہ والی ساری باتیں بتا دو . لیکن ایک چیز کا مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا تم نے باجی کو ذرا سا بھی شق نہیں ہونے دینا کے یہ سب باتیں مجھے بھی پتہ ہیں . بس یہ ہی شو کروانا ہے کے یہ باتیں صرف تمہیں یا باجی کو ہی پتہ ہیں . باجی نے کہا بھائی میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں باجی کو آپ کا پتہ ہی نہیں لگنے دوں گی اور دوسرا  باجی نے اگلے ہفتے آنا ہے میں اس سے تفصیل سے بات کروں گی اور سائمہ کی ساری بات ان کو بتاؤں گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ باجی نے سائمہ سے وہ باتیں کی تھیں یا وہ جھوٹ بول رہی تھی . میں نے کہا ٹھیک ہے . میں انتظار کروں گا . نبیلہ نے کہا جب باجی سے بات ہو جائے گی تو میں آپ کو رات کے وقعت ہی مس کال کروں گی اور پوری تفصیل بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے . پِھر جب میں کال کٹ کرنے لگا تو مجھے یکدم نبیلہ نے کہا بھائی آپ کو ایک بات بتانی تھی . اور یہ بول کر خاموش ہو گئی میں کچھ دیر اس کی بات کے لیے انتظار کیا لیکن وہ چُپ تھی میں نے کہا نبیلہ بتاؤ نا کیا بات بتانی تھی . تو نبیلہ بولی بھائی آپ کو وہ اس دن والی بات یاد ہے جب صبح میں آپ کو ناشتے کے لیے بلانے آئی تو سائمہ اور آپ کھڑے تھے . تو مجھے یاد آیا تو میں نے کہا نبیلہ میں نے اس واقعہ کی تم سے معافی مانگی تھی پِھر کیوں دوبارہ پوچھ رہی ہو . تو نبیلہ بولی  بھائی وہ بات نہیں کر رہی اصل میں ایک مہینہ پہلے مجھے ایک دن سائمہ نے پِھر اکیلے میں تنگ کیا ا می اور ا با جی پھوپھی کے گھر گئے ہوئے تھے میں اکیلی تھی . تو مجھے تنگ کرنے لگی . کے نبیلہ یاد ہے اس دن جب میں نے تمھارے بھائی کا لن کمرے میں پکڑا ہوا تھا اور تم ناشتے کا کہنے کے لیے آئی تھی . اس دن تو تم نے اپنے بھائی کا شلوار میں فل کھڑا لن حقیقت میں دیکھا تھا بتاؤ نا تمہیں اپنے بھائی کا لن کیسا لگا  اور مجھے تنگ کرنے لگی . اور بار بار آپ کا نام لے کر اور آپ کے اپنے بھائی کا لن کی تعریف کر کے میری گانڈ ہاتھ سے مسل رہی تھی . بھائی میں اس کی ان حرکتوں سے بہت تنگ ہوں . میں بھی جیتی جاگتی انسان ہوں میرے بھی جذبات ہیں مجھے آپ باھیں میں اس کو کیا جواب دوں . یا آپ خود ہی اس کو سمجھا دیں وہ مجھے تنگ نہ کیا کرے . میں نے کہا نبیلہ ایک بات سچ سچ بتاؤ گی . تو نبیلہ نے کہا جی بھائی پوچھو کیا پوچھنا ہے . میں نے کہا جب تمہیں سائمہ میرا نام لے کر یا میری کسی چیز کا نام لے کر تنگ کرتی ہے تو تمھارے دِل میں کیا خیال آتا ہے . میری بات سن کر نبیلہ خاموش ہو گئی میں 2 دفعہ اس کو کہا کچھ تو بولو پِھر میں نے کہا اچھا میری بات بری لگی ہے تو معافی چاہتا ہوں اور فون بند کر دیتا ہوں . وہ بولی نہیں بھائی معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں . بھائی خیال کیا آنا ہے عورت ہوں جوان ہوں جذبات رکھتی ہوں لیکن میں اس کو اپنے ہی بھائی کے بارے میں کیا جواب دوں . میں نے کہا دیکھو اگر تم اس سے اپنی جان چھوڑ وانہ چاہتی ہو تو جب بھی وہ تمہیں تنگ کرے تم آگے سے ہنس دیا کرو اور اس کو تنگ کرنے کے لیے کبھی کبھی بول دیا کرو کے تم اپنی ماں کو میرے بھائی کے نیچےلیٹا دو نا وہ تو ویسے بھی مر رہی ہے . اور خود بھی اپنی گانڈ میں میرے بھائی کا موٹا لن لے لیا کرو اپنے یار سے تو بڑے مزے سے اندر کرواتی ہو . نبیلہ نے کہا بھائی میں یہ کیسے بول سکتی ہوں . میں نے کہا مجھے تھوڑی بولنا ہے تمہیں تو سائمہ کو بولنا ہے جب تمہیں تنگ کرے تم اس کو یہ باتیں سنا دیا کرو پِھر دیکھو وہ خود ہی تمھاری جان چھوڑ دے گی . نبیلہ نے کہا بھائی میں کوشش کروں گی . پِھر میں نے کہا باجی سے بات کر مجھے بتا دینا میں اب فون بند کرنے لگا ہوں.  پِھر میں دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا مجھے 2 ہفتے ہو گئے تھے نبیلہ سے بات کیے ہوئے جب میں گھر فون کرتا تھا تو اس سے بات ہوئى لیکن باجی کے موضوع پے کوئی بات نہیں ہوئى پِھر ایک دن میں رات کو اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا رات کے11 بج رہے تھے کے اچانک میرے موبائل پے مس کال آئی میں نے دیکھا یہ نبیلہ کا ہی نمبر تھا . میں نے سوچا پاکستان میں تو 1 بجے ہوں گے آج اتنی لیٹ کیوں مس کال کی ہے . میں نے کال ملائی تو نبیلہ نے آہستہ سی آواز میں کہا بھائی کیا حال ہے . میں نے کہا میں ٹھیک ہوں . تم کیسی ہو اتنی لیٹ کال اور اتنا آہستہ کیوں بول رہی ہو . تو وہ بولی وہ آپ کی بِیوِی کنجری آ گئی ہے اور ساتھ اپنے کمرے میں ہے ابھی اس کے کمرے کی لائٹ آف ہوئى ہے تو میں نے آپ کو کال ملائی ہے . لیکن اگر آپ کو میری آواز نہیں آرہی تو تھوڑا انتظار کریں میں اوپر چھت پے جا کر بات کرتی ہوں . میں نے کہا اگر کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی بات نہیں ایسے ہی بات کر لو . تو وہ بولی نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے میں چھت پے ہی جا کر بات کرتی ہوں آپ ہولڈ کریں . میں نے کہا ٹھیک ہے میں انتظار کرتا ہوں. پِھر کچھ ہی دیر بعد نبیلہ بولی بھائی اب آواز آ رہی ہے میں نے کہا ہاں آ رہی ہے اب بولو کس لیے فون کیا تھا . تو نبیلہ نے کہا بھائی باجی گھر آئی ہوئی تھی اور 3 دن رہ کر کل ہی گھر گئی ہیں میری ان سے 2 دن پہلے رات کو تقریباً 3 گھنٹے تک سائمہ کے موضوع پے بات ہوئی تھی . میں نے آپ کے کہنے پے بالکل کھل کر بات کی شروع میں میرے اتنا کھل کر بات کرنے پے باجی بھی تھوڑا حیران ہوئی لیکن پِھر وہ کچھ دیر بعد نارمل ہو گئی اور پِھر وہ بھی کھل گئی اور ان کے ساتھ کھلی گھپ شپ لگی تھی اور بہت سے نئی باتیں پتہ چلیں تھیں . میں نے نبیلہ سے کہا واہ کیا بات ہے میری بہن اب تیز ہو گئی ہے .آگے سے بولی بھائی آپ نے اور سائمہ نے کر دیا ہے . اور میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا . پِھر میں نے کہا بتاؤ کیا بات ہوئی ہے . تو وہ بولی بھائی پہلے تو باجی کو جب چا چی اور سائمہ کا پتہ لگا تو پِھر وہ ہکا بقا رہ گئی . اور دونوں ماں بیٹی کو گالیاں دینے لگی . پِھر میں نے باجی کو جب سائمہ کی وہ باتیں بتائی جو اس نے باجی کے متعلق بولی تھیں تو باجی پہلے تو ساری باتیں سن کر خاموش ہو گئی . اور پِھر بولی نبیلہ یہ سچ ہے کے میں نے سائمہ کو یہ ساری باتیں کی تھیں لیکن میں نے تو اس کو ایک عورت بن کر اپنے بھائی کی خاطر اس کو سمجھایا تھا سائمہ بھی کوئی بچی تو نہیں تھی شادی شدہ تھی اِس لیے میں نے شادی شدہ زُبان میں ہی اور ایک عورت بن کر سمجھایا تھا . لیکن مجھے کیا پتہ تھا وہ تو اپنی ماں سے بڑی کنجری نکلے گی . ماں تو بھائی سے بھی کرواتی تھی لیکن بیٹی نے تو یار بھی بنایا اور پِھر اپنی ہی ماں کو بھی اپنے یار کے نیچے لیٹا دیا بہت بڑی کنجری ہے سائمہ اور مجھے کہتی ہے باجی تیرے بھائی کا لن بہت لمبا اور موٹا ہے وہ مجھ پے ظلم کرتا ہے میں اس سے گانڈ مروا کے تو مر ہی جاؤں گی . لیکن مجھے کیا پتہ تھا وہ تو میرے بھائی کو ترسا کر اپنے یار سے گانڈ کے اندر بھی لیتی ہے  میں نے کہا اچھا تو یہ بات ہے . بھائی ایک بات اور تھی وہ میں نے اپنے طور پے باجی سے پوچھی تھی لیکن مجھے باجی پے حیرانگی بھی ہوئی اور ترس بھی آیا کہ میری باجی اوپر سے خوش دیکھا کر اندر سے کتنی ذیادتی برداشت کر رہی ہے. میں نے پوچھا کیسی ذیادتی نبیلہ مجھے کھل کر بتاؤ . تو نبیلہ نے کہا بھائی میں نے ویسے ہی باجی سے کہا کہ باجی آپ نے جو بھائی کے بارے میں اپنے جذبات سائمہ کو بتا ے تھے کیا وہ آپ کے دِل کی بات تھی یا ویسے ہی سائمہ کو سمجھا نے کے لیے بولے تھے . تو باجی کی آنکھ سے آنسو آ گئے اور باجی پِھر کچھ دیر بَعْد بولی کہ نبیلہ سچ کہوں تو وہ میرے دِل کے جذبات تھے . کیونکہ میں بھی عورت ہوں جذبات رکھتی ہوں اِس لیے جب سائمہ نے وسیم کے بارے میں مجھے بتایا اور اس کے لن کے بارے میں بتایا تو میرا دِل بھر آیا تھا کیونکہ میرا میاں تو شروع شروع میں بہت اچھا تھا اور مجھے خوب پیار کرتا تھا . سچ بتاؤں تو شروع کے مہینوں میں تو وہ پوری پوری رات مجھے کپڑے بھی نہیں پہننے دیتا تھا پوری رات ننگا رکھتا تھا اور ہر رات 3 دفعہ میری جم کر مارتا تھا . لیکن پِھر پہلا بچہ ہوا تو وہ ہفتے میں 2 یا 3 دفعہ ہی بس کرتا تھا پِھر دوسرا بچہ ہوا تو ہفتے میں 1 دفعہ کرنے لگا اور ا ب یہ حال ہے مہینے میں ایک دفعہ کرتا ہے لیکن میرے آگے اور پیچھے میں خود 2 بار جلدی جلدی فارغ ہو جاتا ہے اور مجھے رستے میں چھوڑ دیتا ہے . اور میں بس 3 سال سے بس ایسے ہی برداشت کر رہی ہوں اِس لیے جب سائمہ نے مجھے وسیم کی روٹین اور اس کے لن کے بارے میں بتایا تو مجھے اپنے نصیب پے دکھ ہوا اور میں نے اپنے دِل کے جذبات اس کو کہہ دیئے . لیکن نبیلہ خود بتا وسیم میرا چھوٹا بھائی ہے تم یا میں کچھ کر تو نہیں سکتی نہ. بھائی پِھر میں نے باجی کو آپ کی وہ باتھ روم والی بات بتا دی تھی میں نے کہا باجی میں نے وسیم بھائی کا لن دیکھا ہوا ہے سائمہ ٹھیک کہتی ہے بھائی کا لن کافی موٹا بھی ہے لمبا بھی ہے اور میں نے باتھ روم والا واقعہ بتا دیا . باجی نے میری بات سن کر لمبی سی آہ بھری اور بولی لیکن نبیلہ کچھ بھی ہو وسیم ہمارا بھائی ہے . ہم سن کر یا دیکھ کر بھی اپنا نصیب تو نہیں بَدَل سکتے. بھائی مجھے جو نئی بات باجی سے پتہ چلی اس کو سن کر تو میں خود بھی حیران اور ہکا بقا رہ گئی تھی . میں نے کہا وہ کون سی بات ہے . تو باجی نے بتایا کے میری نند یعنی ہماری خالہ کی بیٹی شازیہ وہ بہت بڑی چنال عورت نکلی ہے . کیونکہ باجی نے بتایا کے وہ اکثر اپنے سسرال میں لڑائی کر کے اپنے یعنی ہماری خالہ کے گھر آ جاتی ہے . اور کتنے کتنے دن یہاں ہی رہتی ہے . میں نے کہا نبیلہ اِس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے . تو نبیلہ نے کہا بھائی آپ پہلے پوری بات سن لیں پِھر بتائے گا . باجی نے کہا مجھے پہلے پہلے تو کچھ بھی نہیں پتہ تھا . لیکن میں اندر خانہ سوچتی رہتی تھی میرا میاں اچھا بھلا صحت مند بندہ ہے وہ یکدم ہی ہفتے والی روٹین سے مہینے والی پے کیسے چلا گیا . مجھے اپنے سوال کا کوئی بھی جواب نہیں ملا . لیکن پِھر ایک دن مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا . میں اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی گرمی بھی زیادہ تھی رات کے وقعت لائٹ چلی گئی تو گرمی کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی . اور میں اٹھ کر بیٹھ گئی ساتھ بیڈ پے دیکھا میرے میاں نہیں ہے . میں تھوڑا حیران ہوئی یہ آدھی رات کو کہاں گئے ہیں پِھر سوچا ہو سکتا پانی پینے یا باتھ روم میں گئے ہوں گے . میں کوئی 15 منٹ تک انتظار کرتی رہی اور لیکن میرا میاں واپس نہیں آیا . میں سوچ رہی تھی پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے ان کی کوئی طبیعت تو خراب نہیں ہے اِس لیے میں بیڈ سے شور کیے بنا اٹھی اور کمرے سے باہر آ گئی . میں صحن میں گئی وہاں بھی کوئی نہیں تھا پِھر باتھ روم میں گئی وہاں بھی کوئی نہیں تھا ایک اور بیڈروم تھا وہ کسی زمانے میں میری نند کا تھا لیکن شادی کے بعد تو خالی ہی تھا میں نے اس کو کھول کر دیکھا تو وہ بھی خالی تھا . میں خالہ کے کمرے میں دیکھنے گئی وہاں بھی کوئی نہیں تھا میں اور زیادہ حیران ہوئی میری نند جب بھی آتی تھی تو اپنی ماں کے ساتھ ہی اس کمرے میں سوتی تھی لیکن اس کی چارپائی بھی خالی تھی مجھے شدیدحیرت ہوئی کے گھر کے 2 لوگ میرا میاں اور اس کی بہن پورے گھر میں نہیں ہیں . اب آخری گھر میں بیڈروم کی بیک پے کوئی10 فٹ  کی گلی بنائی ہوئی ہے اور دیوار بھی بنی ہوئی ہے اس میں اپنے کپڑے وغیرہ وہاں ہی دھوتے تھے . اور ایک کونے پے اسٹور کمرہ بھی بنایا ہوا تھا جس میں گندم وغیرہ اور گھر کی پیٹی اس میں رکھی تھی . میاں چلتی ہوئی خالی والے بیڈروم کے دروازے سے کو کھول کر پیچھے جو خالی جگہ بنائی ہوئی تھی وہاں آ گئی وہاں باہر تو کوئی بھی نہیں تھا اسٹور کا دروازہ ویسے بند تھا لیکن اس کی کنڈی باہر سے کھلی ہوئی تھی میں نے سوچا شاید خالہ کنڈی لگانا بھول گئی ہوں گی . میں چلتی ہوئی جب اسٹور کے پاس آئی تو مجھے اسٹور کی دوسر ی دیوار والی سائڈ پے لوہے کی کھڑکی لگی ہوئی تھی اس میں صرف جالی ہی لگی تھی اس اس کھڑکی سے مجھے جو آہستہ آہستہ آواز سنائی دی وہ میرے لیےحیران کن تھی کیونکہ یہ آواز تو اس وقعت ہی کسی عورت کے منہ سے نکلتی ہے

جب کوئی مرد اس کو جم کا چو د رہا ہو . میں حیران تھی یہ آواز تو میری نند کی تھی لیکن وہ اندر کس مرد کے ساتھ ہے میرا دِل دھڑکنےلگا مجھے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی . میں تھوڑا کھڑکی کے پاس ہو کر ایک سائڈ پے کھڑی ہو گئی اب مجھے آوازیں بالکل صاف سنائی دے رہی تھیں . پِھر وہاں جو میں نے سنا تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی کیونکہ اندر اندھیرا تھا میں دیکھ تو سکتی نہیں تھی لیکن آواز صاف سن سکتی تھی . میری نند نے جب یہ کہا .) ظفر ہور دھکے زور نال مار مینو تیرا لن پورا اندر تک چای ڈا  اے( . پِھر میرے میاں کی آواز میرے کان میں آئی کے )شازیہ توں ذرا صبر کر ہون لن پورا اندر سم پو سی (میرا میاں اندر اپنی سگی بہن کو چھو د رہا تھا اور اس کی بہن اس کو خود منہ سے بول کر کہہ رہی تھی اور زور لگا کر چودو میں وہاں تقریباً 10منٹ تک کھڑی رہی لیکن اندر سے بدستور مجھے اپنے میاں اور اس کی بہن کے آپس میں جسم ٹکرا نے کی آوازیں اور چدائی کی آوازیں آتی رہیں اور پِھر میں اپنا دُکھی دِل لے کر واپس اپنے کمرے میںآگئی اور میرے آنے کے کوئی آدھے گھنٹے بَعْد میرا میاں بھی آ کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں پتہ نہیں کس دنیا میں تھی اور پتہ نہیں چلا سو گئی صبح اٹھی تو میاں نہیں تھا وہ اپنے کام پے چلا گیا تھا جب نند کو دیکھا تو وہ عام دنوں کی طرح بہت خوش تھی اور مجھے سے بھی ویسے ہی باتیں کر رہی تھی جو عام دنوں میں کرتی تھی . لیکن میں اندر سے مر چکی تھی . پِھر جب میں نے اپنے میاں سے بات کی تو مجھے اس نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اب وہ میری نند کے پُرانے کمرے میں روز رات کو چلا جاتا اور 2 یا 3 گھنٹے اپنی بہن کے ساتھ مزہ کر کے واپس آجاتا جب کبھی میرے جسم کی طلب ہوتی تو مہینے میں ایک دفعہ مجھے سے کر لیا کرتا تھا بس یوں ہی 3 سال سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو برداشت کر رہی ہوں . بھائی یہ آج نئی بات مجھے باجی نے بتائی تھی اور میں نے جب سے سنا ہے دِل رَو رہا ہے کے اصل ظلم تو میری باجی کے ساتھ ہو رہا ہے ، سائمہ بھی اپنی زندگی میں خوش ہے اور شازیہ بھی خوش ہے . باجی کی کہانی نبیلہ کے منہ سے سن کر میں بہت زیادہ پریشان اور دُکھی ہو گیا تھا . اور میں نے کہا نبیلہ میرا دِل اب بات کرنے کو نہیں کر رہا ہے . میں پِھر بات کروں گا اور کال کو کٹ کر دیا اور گہری سوچوں میں گم ہو کر سو گیا. نبیلہ سے بات ہو کر کتنے دن ہو گئے تھے لیکن میرا دِل خوش نہیں تھا کیونکہ میں باہر رہ کر بھی اتنا پیسہ کما کر بھی اپنی کسی بھی بہن کے لیے خوشی نا خرید سکا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا میری باجی کتنے سالوں سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو چھپا کر بیٹھی تھی اور ہر وقعت خوش رہتی تھی لیکن کس کو کیا پتہ تھا باہر دکھنے والی خوشی اندر سے کتنا بڑا ظلم برداشت کر رہی ہے. پِھر یوں ہی دن گزرتے رہے میں گھر فون کر لیتا تھا اور نبیلہ سے بھی بات ہو جاتی تھی لیکن پِھر دوبارہ کبھی اِس موضوع پے بات نہ ہوئی . مجھے اب 1 سال اور 5 مہینے ہو چکے تھے . میں بس مشین کی طرح ہی پیسہ کما رہا تھا . لیکن شاید قدرت کو کچھ اور منظور تھا . جب میرے پاکستان جانے میں کوئی 4 مہینے باقی تھے تو مجھے ایک دن گھر سے کال آئی وہ میرے لیے بمب پھوٹنے سے زیادہ خطر ناک تھی.


. . . . . . . . . . . . جاری ہے
3rd page completed
Keep Posting peace

 
Return to Top indiansexstories